آسٹریلیا میں 16 سال سے کم عمر نوجوانوں کے سوشل میڈیا استعمال پر عائد پابندی کے بعد سوشل میڈیا کمپنیوں نے نوجوانوں کے 47 لاکھ اکاؤنٹس بند کر دیے۔
آسٹریلوی حکام کے مطابق یہ پابندی 10 دسمبر کو نافذ کی گئی تھی، جس کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو کم عمر صارفین کے اکاؤنٹس بند کرنے کی ہدایات جاری کی گئیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ پابندی پر عمل نہ کرنے والی سوشل میڈیا کمپنیوں پر 33 لاکھ ڈالر تک جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے، تاکہ قانون پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔
خیال رہے کہ آسٹریلیا بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی لگانے والا دنیا کا پہلا ملک ہے، جس کے اس اقدام کو عالمی سطح پر خاصی توجہ حاصل ہو رہی ہے۔
آسٹریلیا کی حکومت نے گزشتہ سال نومبر میں 16 سال سے کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا کے استعمال سے روکنے کے لیے قانون سازی کرنے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد اس پابندی کو عملی شکل دی گئی۔
ایک پریس کانفرنس کے دوران آسٹریلیا کے وزیراعظم انتھونی البانیز نے کہا تھا کہ سوشل میڈیا ہمارے بچوں کو نقصان پہنچا رہا ہے اور اس کے منفی اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
اس موقع پر انہوں نے مختلف تحقیقی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ سوشل میڈیا پر زیادہ وقت گزارنے سے بچوں کی جسمانی اور ذہنی صحت کو مختلف خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

