برطانیہ کی رائل نیوی نے جمعے کے روز اعلان کیا ہے کہ اس کے پہلے فل سائز خودکار (بغیر عملے کے) ہیلی کاپٹر نے اپنی پہلی آزمائشی پرواز کامیابی سے مکمل کر لی ہے، جو جدید بحری دفاعی ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔
رائل نیوی کے مطابق یہ جدید ہیلی کاپٹر آبدوزوں کی نگرانی، سمندری گشت اور دیگر خطرناک عسکری مشنز کے لیے تیار کیا گیا ہے، جہاں انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالے بغیر طویل اور پیچیدہ آپریشنز انجام دینا مقصود ہوتا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق فروری 2022 میں یوکرین پر روسی حملے کے بعد یورپ کے دفاعی منظرنامے میں نمایاں تبدیلیاں دیکھنے میں آئی ہیں۔ ان حالات کے تناظر میں یورپی حکومتیں نہ صرف اپنے دفاعی بجٹ میں اضافہ کر رہی ہیں بلکہ جدید فوجی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے پر بھی بھرپور توجہ دے رہی ہیں۔ اسی حکمتِ عملی کے تحت جدید خودکار نظاموں اور بغیر پائلٹ عسکری پلیٹ فارمز کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
امریکا کی جانب سے گرین لینڈ کو حاصل کرنے میں دلچسپی بھی جزوی طور پر ان حساس آبی راستوں کی نگرانی بڑھانے سے جڑی ہوئی ہے جہاں روسی بحری جہاز اور آبدوزیں سرگرم رہتی ہیں۔ ان راستوں میں گرین لینڈ، آئس لینڈ اور برطانیہ کے درمیان واقع شمالی بحرِ اوقیانوس کے علاقے شامل ہیں، جو نیٹو کے دفاعی نظام میں خاص اہمیت رکھتے ہیں۔
رائل نیوی کے مطابق نئے خودکار ہیلی کاپٹر، جسے پروٹیئس (Proteus) کا نام دیا گیا ہے، نے ایک مختصر مگر کامیاب ٹیسٹ مشن مکمل کیا۔ یہ ہیلی کاپٹر تقریباً 60 ملین پاؤنڈ (80 ملین امریکی ڈالر) کی لاگت سے تیار کیا گیا ہے اور اسے شمالی بحرِ اوقیانوس میں ابھرتے ہوئے خطرات کے مقابلے کے لیے برطانیہ اور نیٹو اتحادیوں کے دفاع میں کلیدی کردار ادا کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
یہ جدید ہیلی کاپٹر معروف دفاعی اور فضائی ٹیکنالوجی کی کمپنی لیونارڈو نے تیار کیا ہے۔ بحریہ کے مطابق پروٹیئس جدید سینسرز، طاقتور کمپیوٹر سسٹمز اور جدید سافٹ ویئر سے لیس ہے، جو اسے اپنے اردگرد کے ماحول کو سمجھنے، ڈیٹا کا تجزیہ کرنے اور خودکار طور پر فیصلے کرنے کی صلاحیت فراہم کرتے ہیں۔
برطانوی بحریہ کا کہنا ہے کہ پروٹیئس کو خاص طور پر آبدوز شکن کارروائیوں، سمندری نگرانی اور زیرِ آب اہداف کی کھوج کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ ہیلی کاپٹر خراب موسم اور مشکل سمندری حالات میں بھی مؤثر انداز میں کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو روایتی انسانی عملے والے ہیلی کاپٹروں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے۔
لیونارڈو ہیلی کاپٹرز کے برطانیہ میں منیجنگ ڈائریکٹر نائیجل کولمین کے مطابق،
’پروٹیئس مشکل اور خطرناک حالات میں انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالے بغیر طویل دورانیے کے مشنز انجام دینے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے، جو مستقبل کی بحری جنگی حکمتِ عملی کے لیے نہایت اہم ہے۔‘
واضح رہے کہ برطانوی بحریہ اس سے قبل بھی مختلف اقسام کے ڈرونز استعمال کر رہی ہے، جن میں نگرانی کے لیے ایک چھوٹا بغیر پائلٹ ہیلی کاپٹر بھی شامل ہے۔ تاہم پروٹیئس سائز کے لحاظ سے بڑا، ٹیکنالوجی کے اعتبار سے کہیں زیادہ جدید اور آپریشنل صلاحیتوں میں نمایاں طور پر بہتر قرار دیا جا رہا ہے، جسے مستقبل کی بحری جنگوں میں ایک گیم چینجر سمجھا جا رہا ہے۔

