میئر کراچی مرتضیٰ وہاب 23 گھنٹے بعد آگ سے تباہ شدہ گل پلازہ پہنچ گئے۔ ان کی آمد پر شہریوں نے احتجاج کیا اور نعرے لگائے۔
میڈیا سے گفتگو میں مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ کچھ لوگوں نے نعرے لگائے، عوام کی تکلیف کو سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آگ پر مکمل کنٹرول اور کولنگ کا عمل کب مکمل ہوگا، اس بارے میں کوئی وقت نہیں دے سکتا۔ تاجروں نے بتایا ہے کہ ایک راستے سے فائر فائٹرز جا سکتے ہیں۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ لاپتا افراد کو بچانے کی کوششیں جاری ہیں، لوگوں کے کہنے کے مطابق عمارت کے پیچھے سے بھی آپریشن کیا جا رہا ہے، جبکہ 24 گھنٹے سے فائر فائٹرز آگ بجھانے میں مصروف ہیں۔
میئر کراچی کا کہنا تھا کہ 65 کے قریب لوگ لاپتا ہیں، رش کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں، اور ہمارا ایک فائر فائٹر دورانِ ڈیوٹی شہید ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عوام جذباتی ہیں اور ان کے دکھ کو سمجھتا ہوں، مجھ پر تنقید کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ کل سے فائر بریگیڈ کام کر رہی ہے، دس بج کر 27 منٹ پر کال موصول ہوئی اور 15 منٹ میں فائر بریگیڈ موقع پر پہنچ گئی، فائر بریگیڈ کے وقت پر نہ پہنچنے کی بات درست نہیں ہے۔
گل پلازہ کے دورے کے بعد میئر کراچی قریب موجود ڈی سی آفس چلے گئے، جہاں ڈی سی آفس کے باہر بھی شہریوں نے احتجاج کیا۔

