کراچی: محکمہ فائربریگیڈ کی جانب سے دو سال قبل کی گئی تحقیق میں بڑی عمارتوں میں فائر سیفٹی کی سنگین خامیوں کا انکشاف ہوا تھا۔ بلدیہ عظمیٰ کراچی نے 2023 میں شہر کی بلند عمارتوں اور کاروباری مراکز کا فائر سیفٹی آڈٹ کرایا تھا، جس کی رپورٹ یکم جنوری 2024 کو کمشنر کراچی کو بھجوائی گئی۔
رپورٹ کے مطابق شارع فیصل، آئی آئی چندریگر روڈ، شاہراہ قائدین اور طارق روڈ پر مجموعی طور پر 235 سے زائد عمارتوں کا سروے کیا گیا، جن میں فائر سیفٹی کے حوالے سے متعدد سنگین خامیاں سامنے آئیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ اگر ان خامیوں پر فوری توجہ نہ دی گئی تو مستقبل میں بھی ایسے خطرناک حادثات رونما ہونے کے اندیشے موجود ہیں۔
آڈٹ رپورٹ میں عمارتوں کے مالکان اور مکینوں کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ فائر سیفٹی اقدامات یقینی بنائیں، جبکہ متعلقہ اداروں کو مشورہ دیا گیا تھا کہ ایسی عمارتوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔
2023 کی آڈٹ رپورٹ میں آئی آئی چندریگر روڈ کی 45 عمارتوں کا معائنہ کیا گیا، جن میں سے 29 عمارتوں کو غیر تسلی بخش قرار دیا گیا۔ رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ تقریباً 77 فیصد عمارتوں میں فائر فائٹنگ کا سامان موجود نہیں تھا، جس سے آگ لگنے کی صورت میں انسانی جانوں کو شدید خطرہ لاحق ہے۔
یہ آڈٹ رپورٹ سانحہ گل پلازہ کے بعد مزید اہمیت اختیار کر گئی ہے، کیونکہ حادثے میں سامنے آنے والی خامیاں اور انتظامی غفلت اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ پہلے سے موجود خطرات کو نظر انداز کیا گیا تھا۔

