واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ گرین لینڈ کے معاملے پر ایسا قدم اٹھایا جائے گا جس سے نیٹو بھی خوش ہوگا اور امریکا بھی مطمئن رہے گا۔
ایک بیان میں امریکی صدر نے کہا کہ اگر امریکا نیٹو کے ساتھ نہ ہو تو نیٹو زیادہ مضبوط نہیں رہ سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیٹو کے لیے جتنا کام انہوں نے کیا ہے، اتنا کسی اور شخص یا صدر نے نہیں کیا، اور اگر وہ ساتھ نہ دیتے تو آج نیٹو کا وجود ہی نہ ہوتا بلکہ وہ تاریخ میں راکھ کا ڈھیر بن چکا ہوتا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ سابق وینزویلا کے صدر نکولس مادورو سے جیل میں ملاقات کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے۔
ٹیرف کے معاملے پر بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ یہ کہنا مشکل ہے کہ سپریم کورٹ ٹیرف سے متعلق کیا فیصلہ دے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر کیس ہار گئے تو سیکڑوں ارب ڈالر کے ٹیرف واپس کرنا پڑ سکتے ہیں، تاہم ان کے مطابق ٹیرف قانونی طور پر نافذ کیے گئے تھے اور اب ان وصولیوں کو واپس کرنا ایک مشکل عمل ہوگا۔

