واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ غزہ بورڈ آف پیس کو اقوام متحدہ کا متبادل بنانے کا ارادہ نہیں ہے اور اقوام متحدہ کو اپنا کام جاری رکھنے دینا چاہیے۔
صدر ٹرمپ نے عہدہ صدارت کے ایک سال مکمل ہونے پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ نیٹو کے لیے جتنا کام انہوں نے کیا، اتنا کسی اور شخص یا صدر نے نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ ساتھ نہ دیتے تو آج نیٹو موجود ہی نہ ہوتا اور تاریخ میں راکھ کا ڈھیر بن چکا ہوتا، اور یہ ایک افسوسناک حقیقت ہے۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ گرین لینڈ سے متعلق کچھ ایسا اقدامات کریں گے کہ نیٹو بھی خوش ہو اور امریکا بھی۔
ٹرمپ نے کہا کہ وہ سابق وینزویلا صدر نکولس مادورو سے جیل میں ملاقات کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ انہوں نے اس موقع پر پیرس میں ہونے والے G7 اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا بھی اعلان کیا۔
صدر ٹرمپ نے اپنی پریس کانفرنس میں پاک بھارت جنگ کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اگر ان کی مداخلت نہ ہوتی تو پاک بھارت جنگ میں 10 سے 20 ملین لوگ ہلاک ہو سکتے تھے، تاہم ان کی کوششوں سے لاکھوں جانیں بچائی گئیں۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کو بھی اس سلسلے میں خراج تحسین پیش کیا کہ آپ نے کروڑوں جانیں بچائیں۔
ٹیرف سے متعلق بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ابھی واضح نہیں، اگر کیس ہار گئے تو سیکڑوں ارب ڈالر کے ٹیرف واپس کرنے پڑ سکتے ہیں۔ تاہم ان کے مطابق ٹیرف قانونی طور پر نافذ کیے گئے تھے اور اب ان وصولیوں کو واپس کرنا ایک مشکل عمل ہوگا، جس سے کئی لوگ متاثر ہو سکتے ہیں۔

