سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق افراد کی تعداد بڑھ کر 67 ہوگئی ہے، تاہم اب تک صرف 17 افراد کی لاشوں کی شناخت ہوسکی ہے جبکہ 77 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ واقعے کو کئی روز گزر جانے کے باوجود متعدد خاندان اپنے پیاروں کی تلاش میں شدید اذیت اور بے یقینی کا شکار ہیں۔
آتش زدہ گل پلازہ کے باہر گزشتہ کئی دنوں سے لواحقین جمع ہیں، جنہوں نے احتجاج کرتے ہوئے ریسکیو اور تحقیقاتی عمل پر شدید عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ سانحہ گل پلازہ کو 6 روز گزر چکے ہیں مگر اب تک لاپتہ افراد کو تلاش نہیں کیا جا سکا، جس کے باعث ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔
ریسکیو حکام کے مطابق عمارت کے انتہائی مخدوش ہونے اور کسی بھی وقت گرنے کے خدشے کے باعث بھاری مشینری کے ذریعے ملبہ ہٹانے کا کام عارضی طور پر روک دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ انسانی جانوں کے تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے احتیاطی اقدامات ناگزیر ہیں۔
گرنے والے حصوں میں لاپتہ افراد کی تلاش ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے، تاہم اس کے باوجود ریسکیو اہلکار ملبے تلے دبے افراد کو تلاش کرنے کی کوششیں مسلسل جاری رکھے ہوئے ہیں۔ حکام کے مطابق جیسے ہی عمارت کو محفوظ قرار دیا جائے گا، ریسکیو آپریشن میں تیزی لائی جائے گی۔
یاد رہے کہ گل پلازہ میں آگ ہفتے کی شب لگی تھی، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پورے پلازہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور عمارت مکمل طور پر راکھ کا ڈھیر بن گئی۔ آگ کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ اندر موجود افراد کو باہر نکلنے کا موقع بھی نہ مل سکا۔
سانحہ گل پلازہ کے حوالے سے تحقیقاتی حکام نے عینی شاہدین اور متاثرین کے بیانات کی روشنی میں ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ تیار کر لی ہے۔ تحقیقاتی ذرائع کے مطابق یہ آگ شارٹ سرکٹ کے باعث نہیں لگی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ گل پلازہ میں آگ مصنوعی پھولوں کی ایک دکان میں لگی، جہاں بچوں کے کھیلنے کے دوران آگ بھڑکی۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق بچے ممکنہ طور پر دکان میں موجود ماچس یا لائٹر سے کھیل رہے تھے، جس کے باعث آگ نے دکان میں موجود آتش گیر سامان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
تحقیقاتی ذرائع نے مزید بتایا کہ ابتدائی طور پر آگ دکان کے سامان تک محدود رہی، تاہم بعد ازاں یہ بجلی کی تاروں کے ذریعے پورے پلازہ میں پھیل گئی، جس کے نتیجے میں صورتحال مکمل طور پر قابو سے باہر ہو گئی۔

