امریکا نے غزہ پیس بورڈ کے قیام کے بعد اب غزہ کی تعمیرِ نو کا باضابطہ منصوبہ بھی پیش کر دیا ہے، جسے ’’نیو غزہ‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ پیس بورڈ لانچ کیے جانے کے بعد ان کے داماد جیرڈ کشنر نے عالمی اقتصادی فورم میں غزہ کی تعمیرِ نو کا منصوبہ پیش کیا۔ کشنر نے بتایا کہ دو سالہ جنگ کے دوران غزہ میں 90 ہزار ٹن گولہ بارود استعمال ہوا، جس کے نتیجے میں ہزاروں جانیں ضائع ہوئیں جبکہ 60 ملین ٹن سے زائد ملبہ جمع ہو گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کے دوسرے مرحلے میں غزہ کی تعمیرِ نو کا عمل شروع کیا جائے گا۔
اسی تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حماس نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کیا تو اسے تباہ کر دیا جائے گا۔
برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق جیرڈ کشنر نے کہا کہ صدر ٹرمپ کے بقول یہ تمام اقدامات غزہ کے عوام کے لیے ہوں گے۔ منصوبے کے تحت غزہ کو مختلف زونز میں تقسیم کیا جائے گا اور تعمیر نو کا آغاز رفح سے کیا جائے گا، جہاں مزدوروں کی رہائش کا انتظام کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ غزہ میں ملبہ ہٹانے کا کام پہلے ہی شروع ہو چکا ہے، جس کے بعد ’’نیو غزہ‘‘ وجود میں آئے گا، جہاں نئی امید، ترقی اور صنعتی سرگرمیوں کا آغاز ہوگا۔
جیرڈ کشنر نے اس موقع پر ایک سلائیڈ شو بھی پیش کیا جس میں ’’نیو غزہ‘‘ کا ماسٹر پلان دکھایا گیا۔ اس ماسٹر پلان میں رہائشی علاقوں، ڈیٹا سینٹرز اور انڈسٹریل پارکس کے لیے مخصوص زونز شامل ہیں۔ سلائیڈز میں بحیرۂ روم کے ساحل کی ایک تصویر بھی دکھائی گئی، جس میں دبئی یا سنگاپور کی طرز پر چمکتے ہوئے بلند و بالا ٹاورز نمایاں تھے۔
کشنر کا کہنا تھا کہ آنے والے ہفتوں میں واشنگٹن میں ایک بین الاقوامی کانفرنس منعقد کی جائے گی، جہاں نجی شعبے کی جانب سے غزہ کی تعمیر نو کے لیے کیے جانے والے بڑے عطیات کا اعلان کیا جائے گا۔
تاہم خبر ایجنسی کے مطابق امریکا کے ان منصوبوں میں کئی اہم اور حساس مسائل کا ذکر نہیں کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق منصوبے میں جائیداد کے حقوق، جنگ کے دوران اپنے گھر، کاروبار اور روزگار کھونے والے فلسطینیوں کے معاوضے، اور تعمیر نو کے دوران بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی عارضی رہائش سے متعلق کوئی واضح حکمتِ عملی شامل نہیں کی گئی۔

