آئرلینڈ نے غزہ امن بورڈ سے متعلق شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس منصوبے پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔
آئرلینڈ کے نائب وزیر اعظم سائمن ہیرس نے کہا ہے کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کیے گئے امن بورڈ میں واضح طور پر سنگین خطرات کی نشانیاں دیکھ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ اپنی موجودہ شکل میں تشویش کا باعث ہے۔
سائمن ہیرس نے کہا کہ دستخط کی تقریب کے دوران جو کچھ دیکھا گیا، وہ اس ابتدائی امن بورڈ منصوبے سے مختلف تھا جس پر پہلے بات کی جا رہی تھی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اقوام متحدہ نے جس منصوبے کی توثیق کی تھی، اس میں غزہ امن منصوبے کی نگرانی کے لیے ایک بورڈ قائم کرنا شامل تھا۔
آئرش نائب وزیر اعظم کے مطابق اب سامنے آنے والی تجاویز میں نہ صرف غزہ کا واضح ذکر موجود نہیں بلکہ ان میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی شمولیت بھی شامل ہے، جو اس منصوبے کی سمت اور مقاصد پر مزید سوالات کھڑے کرتی ہے۔
سائمن ہیرس نے مزید کہا کہ موجودہ حالات میں آئرلینڈ کو غزہ امن بورڈ میں شمولیت کی کوئی صورت نظر نہیں آ رہی، کیونکہ یہ منصوبہ اپنی اصل روح اور طے شدہ اہداف سے ہٹتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔

