امریکا نے ایران کی جانب بڑی فوجی فورس روانہ کر دی ہے، جس میں جنگی بحری جہاز اور جنگی طیارے شامل ہیں۔ امریکی اقدام خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کی بڑی فورس ایران کی جانب رواں دواں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بہت سے جہاز ایران کی طرف جا رہے ہیں اور امریکا احتیاطی طور پر ایران کے قریب فورس تعینات کر رہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ آئندہ صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے اور دیکھا جائے گا کہ آگے کیا ہوتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق امریکا نے ایران کو پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ اگر پھانسیاں دی گئیں تو کارروائی کی جائے گی، اور ان کی دھمکی کے بعد ایران نے پھانسیاں منسوخ کر دیں۔
امریکی صدر نے واضح کیا کہ اس فوجی نقل و حرکت کا مطلب یہ نہیں کہ امریکا لازمی طور پر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کرے گا، تاہم تمام آپشنز زیر غور ہیں۔
غیر ملکی میڈیا نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایک کیریئر اسٹرائیک گروپ اور دیگر فوجی دستے مشرق وسطیٰ کی جانب روانہ ہو چکے ہیں۔ اس فورس میں طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن، دیگر جنگی بحری جہاز اور جنگی طیارے شامل ہیں۔
واضح رہے کہ اس سے قبل صدر ٹرمپ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ امریکا ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی نہیں کرے گا، تاہم انہوں نے یہ انتباہ بھی دیا تھا کہ اگر ایران نے اپنا جوہری پروگرام دوبارہ شروع کیا تو امریکا بھرپور جواب دے گا۔

