کراچی: سینئر فائر آفیسر ظفر خان نے کہا ہے کہ گل پلازہ سانحے کے بعد ملبے سے اب صرف ہڈیاں مل رہی ہیں، لاشیں نہیں۔
ظفر خان نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ گل پلازہ کے تہ خانے میں ایک بار پھر آگ بھڑک اٹھی تھی جسے فوری طور پر بجھا دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ عمارت کی چھت سے ڈیزل ٹینک نہیں اتارا گیا تھا اور جب اسے اتارنے کی کوشش کی گئی تو اس میں آگ لگی، جسے بعد میں بجھا دیا گیا۔ ظفر خان کے مطابق عمارت کا اسٹرکچر کمزور ہو چکا ہے اور اب صرف سرچ آپریشن جاری ہے۔
گل پلازہ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر ساؤتھ جاوید نبی کھوسو نے کہا کہ سرچ آپریشن حتمی مراحل میں ہے اور آج مکمل کر لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن ایس بی سی اے کی نگرانی میں ہو رہا ہے اور کوشش ہے کہ جلد از جلد اسے مکمل کر لیا جائے۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید نے جیو نیوز سے گفتگو میں بتایا کہ 67 لاشوں کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے۔ اب تک 16 لاشوں کی شناخت ہو چکی ہے جبکہ 6 لاشیں قابل شناخت نہیں تھیں۔ ڈاکٹر کے مطابق 8 لاشوں کی شناخت ڈی این اے سے ہوئی، ایک لاش کی شناخت قومی شناختی کارڈ اور ایک کی شناخت گلے میں پہنے لاکٹ سے کی گئی۔
تحقیقاتی حکام نے سانحہ گل پلازہ کی ابتدائی رپورٹ تیار کر لی ہے، جس میں عینی شاہدین اور متاثرین کے بیانات شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق آگ مصنوعی پھولوں کی دکان میں بچوں کے کھیلنے کے دوران لگی تھی، اور یہ شارٹ سرکٹ کی وجہ سے نہیں ہوئی۔ ابتدائی طور پر آگ دکان میں موجود سامان میں لگی اور بعد میں بجلی کی تاروں تک پھیل گئی۔ آگ لگنے کے بعد عمارت میں موجود افراد باہر بھاگے، مگر دروازے بند ہونے کی وجہ سے بھگدڑ مچی۔
گل پلازہ سانحہ گزشتہ ہفتے 17 جنوری کی رات پیش آیا، جس میں جاں بحق افراد کی تعداد 67 ہوگئی اور 77 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔

