اسلام آباد : وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ڈیووس میں حالیہ ملاقات کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان سے سوال کیا، ’میرے پسندیدہ فیلڈ مارشل کیسے ہیں‘؟
وزیراعظم شہباز شریف نے بتایا کہ انہوں نے جواب میں مہمانوں کی اگلی صف میں بیٹھے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب اشارہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ لمحہ غیر معمولی طور پر دلچسپ تھا اور اس سے ملاقات کے خوشگوار ماحول کی عکاسی ہوتی ہے۔
امن بورڈ کے معاہدے پر ارکان کی دستخط کی تقریب کے دوران دنیا بھر کے ٹی وی چینلز نے وزیراعظم شہباز شریف اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو فیلڈ مارشل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے دکھایا، جس نے عالمی میڈیا کی توجہ حاصل کی۔
وزیراعظم نے ورلڈ اکنامک فورم کے ڈیووس میں ہونے والے اجلاس کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ہونے والی مختصر ملاقات کی مزید تفصیلات بھی شیئر کیں۔ وزیراعظم نے بتایا کہ انہوں نے غزہ کے لیے بورڈ آف پیس کے قیام کے اقدام پر صدر ٹرمپ کو سراہا اور اسے جنگ سے متاثرہ خطے میں امن کی بحالی کی جانب ایک اہم اور مثبت قدم قرار دیا۔
وزیراعظم کے مطابق انہوں نے صدر ٹرمپ سے کہا کہ اگر وہ فلسطینی عوام کے لیے امن، وقار اور بنیادی حقوق کو یقینی بنانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور غزہ کی تعمیر نو کا معاملہ بھی کامیابی سے آگے بڑھتا ہے تو تاریخ اس اقدام کو ان کی ایک عظیم وراثت کے طور پر یاد رکھے گی۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کے خاتمے میں صدر ٹرمپ کے مؤثر کردار کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا اور اس حوالے سے اظہار تشکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ بروقت اور مؤثر سفارتی مداخلت کے باعث خطے میں ممکنہ بڑے جانی نقصان سے بچاؤ ممکن ہوا۔
وزیراعظم نے صدر ٹرمپ سے مخاطب ہو کر کہا، ’مسٹر پریذیڈنٹ، تاریخ آپ کو ایک ایسے عظیم رہنما کے طور پر یاد رکھے گی جس نے بروقت اور مؤثر انداز سے مداخلت کرکے خطے میں لاکھوں جانیں بچائیں‘۔
ملاقات کے ایک دلچسپ پہلو کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے بتایا کہ صدر ٹرمپ نے خود پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے بارے میں استفسار کیا، جو دونوں ممالک کے عسکری اور سفارتی تعلقات کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
وزیراعظم کے مطابق یہ مختصر ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی اور مجموعی طور پر نہایت مثبت اور تعمیری رہی، جس میں علاقائی امن، عالمی استحکام اور باہمی تعاون سے متعلق امور پر خیرسگالی کے جذبات نمایاں تھے۔

