کراچی میں گل پلازہ سانحے کے بعد ملبہ اٹھانے اور سرچ آپریشن کا کام تاحال جاری ہے، جب کہ مختلف سرکاری ادارے اپنی اپنی سطح پر کارروائیاں مکمل کر رہے ہیں۔
ضلع جنوبی کے ڈپٹی کمشنر جاوید نبی کھوسو کے مطابق آج ملبہ اٹھانے کے دوران ڈیڑھ کلو سونا برآمد ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ جس مقام سے سونا ملا وہاں جیولرز کی دکان قائم تھی، جس کے باعث اس کی تصدیق کے بعد برآمد ہونے والا ڈیڑھ کلو سونا متعلقہ دکان کے مالک کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید نے بتایا ہے کہ اب تک 71 انسانی باقیات اور لاشوں کے نمونے حاصل کیے جا چکے ہیں۔ ڈی این اے ٹیسٹ کی مدد سے 16 افراد کی شناخت مکمل ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لاشیں بری طرح جل جانے کے باعث ڈی این اے کا عمل خاصا پیچیدہ ہو گیا ہے، جس کی وجہ سے شناخت کے عمل میں وقت لگ رہا ہے اور فی الحال مزید تفصیلات فراہم کرنا ممکن نہیں۔
صدر گل پلازہ منیجمنٹ کمیٹی تنویر پاستا نے دعویٰ کیا ہے کہ اس سانحے میں 10 ارب روپے سے زائد کا مالی نقصان ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ابھی تک کچھ شہدا کی لاشیں نہیں مل سکیں، جس کے باعث لواحقین شدید کرب اور اضطراب کا شکار ہیں۔
ڈی جی ریسکیو 1122 کے مطابق عمارت کا تقریباً 10 سے 15 فیصد حصہ ایسا ہے جہاں ریسکیو ٹیمیں اب تک نہیں پہنچ سکیں تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ آج ان حصوں میں بھی سرچ آپریشن کیا جائے گا تاکہ کسی بھی ممکنہ انسانی باقیات یا شواہد کو تلاش کیا جا سکے۔
ریسکیو حکام کے مطابق آپریشن انتہائی احتیاط کے ساتھ کیا جا رہا ہے تاکہ مزید کسی جانی نقصان سے بچا جا سکے، جب کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کے بعد ذمہ داروں کے تعین کا عمل بھی آگے بڑھایا جائے گا۔

