ملک کے بالائی علاقوں میں برفباری کا سلسلہ وقتی طور پر تھم گیا ہے، تاہم گزشتہ کئی روز سے وقفے وقفے سے جاری شدید برفباری کے باعث سردی کی شدت میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔
کشمیر، گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کئی کئی فٹ برف موجود ہے، جس کے باعث متعدد رابطہ سڑکیں تاحال بند ہیں اور معمولاتِ زندگی متاثر ہو رہے ہیں۔
اپر ہزارہ ڈویژن کے تمام اضلاع میں ریسکیو اور بحالی کے آپریشن جاری ہیں۔ کاغان شہر تک سڑک کو کلیئر کر دیا گیا ہے، جب کہ شوگران میں برفباری کے باعث پھنسے ہوئے سیاحوں کو بحفاظت ریسکیو کر لیا گیا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔
کالام، ملم جبہ اور گبین جبہ میں برف ہٹانے کا عمل تیزی سے جاری ہے، جب کہ لوئر دیر اور کرم کے علاقوں میں بھی ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن جاری ہیں۔ برف میں پھنسی متعدد گاڑیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے اور مسافروں کو ضروری امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب گلگت بلتستان کے ضلع استور میں شدید برفباری کے بعد نظامِ زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔ استور ویلی روڈ تاحال بحال نہیں ہو سکی، جس کے باعث عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ہنزہ کے زلزلہ متاثرہ علاقے چیپورسن میں بھی تیز ہواؤں اور شدید سردی نے متاثرین کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے، جس پر کئی خاندان محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہو گئے ہیں۔
شمالی بلوچستان اور بالائی سرحدی علاقوں میں سائبیرین ہواؤں کے باعث ریکارڈ توڑ سردی پڑ رہی ہے، جس سے روزمرہ زندگی شدید متاثر ہو چکی ہے۔ سرد موسم کے باعث ایندھن، خوراک اور طبی سہولیات کی فراہمی بھی ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں آج سے بارشوں اور برفباری کے ایک نئے سلسلے کی پیش گوئی کی گئی ہے، جس کے پیش نظر متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔

