سندھ کے مشہور تفریحی مقام گورکھ ہل اسٹیشن پر موسمِ سرما کی پہلی برفباری ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے بعد سردی کی شدت میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے اور پہاڑی علاقہ سفید چادر اوڑھنے سے دلکش منظر پیش کر رہا ہے۔
ضلع دادو میں کیرتھر کے پہاڑی دامن میں سندھ اور بلوچستان کی سرحدی پٹی پر واقع گورکھ ہل اسٹیشن پر برفباری کے بعد ماحول سحر انگیز ہو گیا ہے۔ سرد ہواؤں، برف سے ڈھکی پہاڑیوں اور دھند نے اس مقام کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق برفباری کے بعد گورکھ ہل اسٹیشن پر درجہ حرارت منفی 2 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر گیا ہے، جس کے باعث شدید سردی کی لہر محسوس کی جا رہی ہے۔ مقامی افراد اور سیاح اس غیر معمولی موسم سے لطف اندوز ہو رہے ہیں، تاہم سردی کے باعث احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی بھی ہدایت کی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ گورکھ ہل اسٹیشن وادیٔ مہران کا واحد بلند ترین، سرد ترین اور پرفضا تفریحی مقام ہے، جہاں کئی برسوں بعد موسم سرما میں برفباری دیکھنے کو ملتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر بار برفباری کا منظر سیاحوں کے لیے خاص کشش رکھتا ہے اور بڑی تعداد میں لوگ اس خوبصورت لمحے کو دیکھنے کے لیے یہاں کا رخ کرتے ہیں۔

