امریکا کی ڈیموکریٹک مسلم رکن کانگریس الہان عمر پر ٹاؤن ہال میٹنگ کے دوران ایک شخص نے بدبودار مائع پھینک دیا۔ واقعہ امریکا کی ریاست منی سوٹا کے شہر میناپولیس میں پیش آیا، جہاں الہان عمر عوامی اجتماع سے خطاب کر رہی تھیں۔
عینی شاہدین کے مطابق خطاب کے دوران اچانک ایک شخص نے اسٹیج کی جانب بدبودار مائع پھینکا، جس سے ہال میں افراتفری مچ گئی۔ تاہم خوش قسمتی سے اس واقعے میں الہان عمر زخمی نہیں ہوئیں۔ سکیورٹی پر مامور اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے سفید فام ملزم کو موقع پر ہی حراست میں لے لیا، جبکہ تقریب کو کچھ دیر کے لیے روک دیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق الہان عمر اس ٹاؤن ہال میٹنگ میں ہوم لینڈ سکیورٹی کی وزیر کرسٹی نوم سے استعفے یا مواخذے کا مطالبہ کر رہی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ منی سوٹا میں پیش آنے والے ایک واقعے پر حکومتی مؤقف حقائق کے برعکس ہے اور عوام کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق ہوم لینڈ سکیورٹی کی وزیر کرسٹی نوم اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر اسٹیفن ملر پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک واقعے سے متعلق گمراہ کن معلومات پھیلائیں۔ ان کے مطابق سرکاری بیانیے میں کہا گیا کہ اہلکاروں نے ایک ایسے مسلح شخص کو ہلاک کیا جو مبینہ طور پر قتلِ عام کرنا چاہتا تھا، جبکہ بعد ازاں سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق الیکس پریٹی نامی شخص کے ہاتھ میں اس وقت کوئی گن نہیں تھی اور اسے گولی مارے جانے سے پہلے ہی غیر مسلح کر دیا گیا تھا۔
الہان عمر کا کہنا ہے کہ اس واقعے کی شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں اور ذمہ داران کو جوابدہ بنایا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اختلافِ رائے یا سیاسی تنقید کا جواب تشدد یا نفرت نہیں ہونا چاہیے۔
واضح رہے کہ امریکی رکن کانگریس الہان عمر کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ ماضی میں بھی متعدد بار تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔ الہان عمر کے والدین کا تعلق صومالیہ سے ہے اور وہ امریکا میں مسلم کمیونٹی کی ایک نمایاں آواز سمجھی جاتی ہیں۔ دوسری جانب کرسٹی نوم کو بھی منی سوٹا میں امیگریشن اور کسٹمز انفورسمنٹ (آئس) اہلکاروں کے ہاتھوں ایک شخص کی ہلاکت پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔
واقعے کے بعد سیاسی حلقوں میں سکیورٹی، نفرت انگیز رویوں اور سیاسی عدم برداشت پر نئی بحث چھڑ گئی ہے، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

