تہران: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی فورسز کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لیے پوری طرح تیار ہیں اور ان کی انگلیاں ٹریگر پر ہیں۔
عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران نے ہمیشہ شفاف جوہری معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا جوہری معاہدہ قابل قبول ہوگا جس میں جوہری ہتھیار شامل نہ ہوں اور ایران کے جائز حقوق کو یقینی بنایا جائے، تاہم کسی بھی قسم کی جارحیت کا فوری اور مؤثر جواب دیا جائے گا۔
ادھر ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے مشیر علی شامخانی نے بھی سخت بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکا نے فوجی کارروائی کی تو امریکا، اسرائیل اور ان کے حمایتیوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کی جانب سے محدود حملے کی بات محض فریب ہے اور کسی بھی امریکی حملے کا ایرانی ردعمل فوری، مکمل اور مثالی ہوگا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایک بہت بڑا بحری بیڑا ایران کی طرف بڑھ رہا ہے، جس کی قیادت عظیم طیارہ بردار بحری جہاز ابراہم لنکن کر رہا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ بحری بیڑا ضرورت پڑنے پر طاقت اور تشدد کے ذریعے اپنا مشن فوری طور پر مکمل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
امریکی صدر نے مزید کہا تھا کہ انہیں امید ہے ایران جلد مذاکرات کی میز پر آئے گا اور ایک منصفانہ و مساوی معاہدے پر بات چیت کرے گا، ایسا معاہدہ جس میں جوہری ہتھیار نہ ہوں اور جو تمام فریقین کے لیے بہتر ہو۔

