بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے سابق سربراہ محمد البرادعی نے ایران پر حملوں کی دھمکیوں کو عراق جنگ کی تیاریوں سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال خطرناک مماثلت رکھتی ہے۔
اپنے بیان میں محمد البرادعی نے کہا کہ ایران کے خلاف یکطرفہ دھمکیاں ایسے وقت میں دی جا رہی ہیں جب ایران کی جانب سے کوئی واضح یا فوری خطرہ نظر نہیں آ رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس قسم کی دھمکیاں بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی کے مترادف ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران پر حملوں کی دھمکیوں میں وہی لہجہ اور طرزِ عمل جھلک رہا ہے جو عراق کے خلاف غیر اخلاقی اور غیر قانونی جنگ سے قبل اپنایا گیا تھا۔ اس وقت بھی دعوے کیے گئے تھے جن کی بعد میں کوئی ٹھوس بنیاد سامنے نہیں آ سکی۔
محمد البرادعی نے مزید کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے انسانی جانوں کا ضیاع اور علاقائی تباہی اب کوئی مسئلہ ہی نہیں رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی طاقتیں ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنے کے لیے تیار نظر نہیں آتیں۔
خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ حالیہ دنوں کے دوران متعدد بار یہ بیان دے چکے ہیں کہ امریکی بحری بیڑہ تیزی سے ایران کی جانب بڑھ رہا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

